- Islamabad
- 27.1°C
- Today ( Saturday, 25 April 2026)
26ویں ترمیم کو ختم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسٹس مظہر
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے 20 صفحات پر مشتمل نوٹ میں قرار دیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ انہوں نے بنچز اختیارات کیس میں آئینی بنچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ریگولر بنچ کو آئینی تشریح کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس مظہر نے لکھا کہ 26ویں ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے اور اس کے مندرجات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ اس میں تبدیلی نہیں کرتی، تمام معاملات اسی کے تحت چلیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی بنچ کو کرنی چاہیے اور ریگولر بنچ کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو رکنی بنچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکمنامے واپس لیے جا چکے ہیں، جس کے بعد کی تمام کارروائی غیر مؤثر ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ آئینی بنچ نے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے بھی کالعدم قرار دیے تھے۔
-
اسرائیلی افواج نے نیٹزاریم کوریڈور سے انخلا کر لیا ہے، جو غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا ایک فوجی زون تھا۔ یہ انخلا اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی ایک اہم شرط تھی۔ ممتاز ...
-
شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں موروثی امام، آغا خان چہارم کی نمازِ جنازہ لزبن میں ادا کر دی گئی۔ ہفتے کے روز اسماعیلی کمیونٹی سینٹر میں ہونے والی نجی تقریب میں دنیا بھر سے معززین نے شرکت کی، جن میں پرتگال کے صدر مار...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments