مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر، اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل بنانے والے کارخانوں پر فضائی حملے کر دیے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق حملوں میں اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ نقصان محدود رہا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو اس حملے کی قیمت چکانی پڑے گی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے خود کو اس کارروائی سے الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔

برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا—تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی۔ جوہری نگرانی کے ادارے نے تصدیق کی ہے کہ نتانز کے جوہری مرکز پر تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں ایران کے تین اعلیٰ فوجی کمانڈر بھی مارے گئے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement