ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد “صیہونی دشمن” کو سخت سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ خامنہ ای کا پہلا باضابطہ ردعمل ہے جو انہوں نے حملوں کے بعد دیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا، "اگر موجودہ ایرانی حکومت ایران کو دوبارہ عظیم نہیں بنا سکتی، تو تبدیلی کیوں نہ ہو؟"

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کو اپنے حملوں کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اور خطے میں کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے فوردو، نطنز اور اصفہان کے جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے باوجود تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں ہوا۔

ایران کے مطابق 13 جون سے اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد اب تک 400 سے زائد افراد جاں بحق اور 3,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے بھی ایرانی حملوں میں 24 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement