چین نے امریکہ کی جانب سے درآمدی اشیاء پر نئے محصولات کے نفاذ کے جواب میں تمام امریکی مصنوعات پر 34 فیصد نیا ٹیکس عائد کر دیا ہے، جو 10 اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔

چینی وزارتِ تجارت کے مطابق یہ اقدام امریکہ کی "یک طرفہ اور تحفظ پسند" پالیسیوں کے خلاف کیا گیا ہے۔ اس نئے ٹیرف کے بعد امریکہ سے چین آنے والی اشیاء پر مجموعی درآمدی ٹیکس 54 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، چین نے اہم نایاب دھاتوں کی برآمد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور مخصوص امریکی پولٹری مصنوعات کی درآمد معطل کر دی ہے، جن کے بارے میں صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

چین نے اس معاملے پر عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں بھی شکایت درج کروا دی ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "چین نے غلط کھیلا۔"

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجارتی جنگ عالمی معیشت، مہنگائی اور اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 2200 پوائنٹس کی بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جو کووڈ-19 کے بعد بدترین کارکردگی ہے۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement