- Islamabad
- 30.5°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
ہجرت، واپسی اور انسانیت — ایک سوچنے کا مقام/ایڈووکیٹ ثاقب بٹ
ہجرت انسانی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے، جو کبھی مجبوری، کبھی امید، اور کبھی بقا کے لیے لکھی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برسوں سے قائم انسانی روابط، ثقافتی یگانگت اور تاریخ کی گواہی دینے والے لاکھوں افغان مہاجرین آج ایک نئے موڑ پر کھڑے ہیں۔ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل چمن کے راستے جاری ہے، اور یہ معاملہ صرف اعداد و شمار یا سرکاری کاروائی نہیں، بلکہ ایک انسانی المیہ، ایک جذباتی لمحہ، اور ایک اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔
چمن کے ڈپٹی کمشنر، حبیب احمد بنگلزئی کے مطابق یکم اپریل سے اب تک 2171 افغان باشندے چمن کے راستے واپس افغانستان بھیجے جا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں شہر میں دو ہولڈنگ کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں رجسٹریشن اور بنیادی سہولیات کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے الفاظ — "افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں" — صرف ایک سرکاری بیان نہیں، بلکہ ایک جذبہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے درمیان دہائیوں سے بستے آئے ہیں، اور ان کی واپسی بھی عزت، وقار اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ ایک طرف ملکی قوانین اور سیکیورٹی کی ضرورتیں ہیں، تو دوسری طرف ان مہاجرین کی کہانیاں، آنکھوں میں چھپے خوف، اور دل میں پلتی امیدیں ہیں۔ کچھ کے بچے یہاں پیدا ہوئے، کچھ نے یہاں جوانی گزاری، اور کچھ نے یہاں چھوٹی چھوٹی امیدوں پر زندگی کا سامان باندھ رکھا تھا۔
ریاست کی یہ کوشش کہ واپسی کا عمل منظم اور باوقار ہو، قابلِ تعریف ہے۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ اس موقع پر صرف قانونی تقاضوں پر نہیں، بلکہ انسانی پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے۔ واپسی صرف ایک نقل مکانی نہیں، یہ ایک جذباتی سفر بھی ہے — ان گھروں کی طرف، جنہیں شاید برسوں سے دیکھا نہیں، جن کی چھتیں ٹوٹ چکی ہیں، اور جن کے دروازے اب بھی بند ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہجرت صرف سرحد عبور کرنا نہیں، بلکہ دلوں کے تعلق کو بھی سنبھالنا ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل خواہ کیسا بھی ہو، اس میں انسانیت، احترام اور ہمدردی کی جھلک ضرور ہونی چاہیے۔ یہ نہ صرف ان کے لیے ایک نیا آغاز ہو، بلکہ ہمارے لیے بھی ایک بہتر مستقبل کی جانب قدم ہو — ایک ایسا مستقبل جہاں مہاجر صرف ایک "مسئلہ" نہ ہوں، بلکہ ایک موقع ہوں — محبت، بھائی چارے اور امن کا۔
-
سنتے آئے ہیں
دیواروں کے کان ہوا کرتے ہیں
لیکن ان کا دل بھی ہوتا ہے
تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو
یہ دیواریں
کیسے بلک کے روتی ہیں
کہنہ سالی کے باعث چھکتی چوکھٹ
کیسے دہائی دیتی ہے
دروازوں کی ...
-
وہ کہہ رہا ہے
تمھارے اعضا
زبان پا کر
مخالفت میں
گواہی دیں گے
جو کر رہے ہیں
وہ سب کہیں گے
میں سوچتا ہوں
مخالفت میں جو بولتا ہے
اسی کے جبڑے کے بیلنے میں
زباں سلامت پڑی ہوئی ہے<...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments