- Islamabad
- 25.5°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
عوام کے نام کھلا خط/امجد شہزاد
معتبر رہنماؤں اور میرے عزیز ہم وطنوں کے نام،
السلام علیکم!
میں ایک عام آدمی ہوں، جو اس وطن میں آپ سب کی طرح زندگی گزار رہا ہے، اور ان دنوں ملک میں جو سیاسی کشیدگیاں اور احتجاجات ہو رہے ہیں، ان سے دل دکھی اور پریشان ہوں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ ہم سب مل کر اس مسئلے کا حل امن و سکون کے ساتھ تلاش کریں، تاکہ ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ اور روشن ہو۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ملک میں اختلافات اور مسائل ہیں، اور ہر کسی کا حق ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کرے اور اپنے حقوق کی جنگ لڑے۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اس سب کے نتیجے میں ہم کہاں جا رہے ہیں؟ جب سڑکیں بند ہوتی ہیں، کاروبار متاثر ہوتے ہیں، اور بے گناہ افراد ان احتجاجات کی نذر ہو جاتے ہیں، تو کیا ہم واقعی اپنے مقصد کو صحیح طریقے سے حاصل کر پاتے ہیں؟ کیا یہ ہماری قوم کی ترقی کے لیے فائدہ مند ہے؟
میرے خیال میں، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر اختلاف کا حل جنگ یا سڑکوں پر لڑنے میں نہیں ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے، اور مسائل کا حل باہمی افہام و تفہیم سے نکالنا چاہیے۔ عوامی احتجاجات اور سڑکوں کی بندش صرف نفرت اور تقسیم کو بڑھاتی ہے، اور ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔
میں چاہتا ہوں کہ ہم سب، اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آئیں۔ ہمارے ملک میں اتنی طاقت ہے کہ ہم بات چیت اور مکالمے کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
آخر میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم نے اپنے راستے کو پرامن اور تحمل سے اپنایا، تو ہمیں نہ صرف کامیابی ملے گی، بلکہ ہم ایک مضبوط، متحد اور خوشحال قوم بنیں گے۔
اللہ ہمیں اپنی ہدایت دے، آمین۔
مخلص،
امجد شہزاد
صوابی
-
انگریزی حروفِ تہجی میں سیریل ٹو اور ٹوینٹی ٹو پر آنے والے دونوں حروف بی اور وی الگ الگ تو شاید کسی خاص اہمیت کے حامل نہ ہوں لیکن یہ دونوں مل کر ایک بہت خطرناک لفظ ”بیوی“ بناتے ہیں جی ہاں یہی بیوی دنیا کے تقریباً اسی فی صد مردوں یا شوہروں کی زندگی میں آکر دل دہلا...
-
شاعری شاعرکی جان ہوتی ہے،اور ہر شاعرکا کلام اس کے تخیل کا شاہکار ہوتا ہے۔ شاعر اپنے کلام میں اپنا جو معافی الضمیر بیان کرتا ہے،یہ اسے ہی علم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ سننے والا اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق غزل و نظم کی تشریح کرتا ہے۔اور جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق کسی ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments