تازہ ترین
اردو کے قاسم علیگ / خطاب عالم شاذؔ
28؍نومبر دوپہر ایک بجکر چھبیس منٹ پر واٹس ایپ گروپ انجمن ترقی اردو ہند(مغربی بنگال) میں انیس الرحمن صاحب کا پوسٹ ’انجمن ترقی اردو ہند مغربی بنگال کے جنرل سکریٹری ایم۔اے ۔ قاسم علیگ کا انتقال ہو گیا‘ پڑھ کر ٹھٹک سا گیا ، سوچنے لگاکہ یہ کیسے ممکن ہے ابھی دو دن پہلے ہی ان سے میری فون پر گفتگو ہوئی ۔دوران ِ گفتگو کسی قسم کی کوئی تکلیف یا طبیعت علیل کا احساس نہیں ہو ا ،اچانک آخر ہو کیا گیا!پھر آگے پڑھا تو واضح ہوا کہ اسنسول میں انجمن کے پروگرام میں دوران ِ تقریر وہ غش کھا کر گرے اور وہیں ان کی روح پرواز کر گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ فون رکھ کر خیالوں میں گم۔۔۔۔۔۔شروع سے مجھے یاد ہے کچھ ذرا ذرا ۔جب میں کلاس پنجم یا ششم میں پڑھتا تھا۔ سنہ1991 یا 1992 کا زمانہ تھا ۔ حمایت الغرباء ہائی اسکول میں اردو کے ہی تعلق سے کسی پروگرام میں ایم۔اے۔قاسم علیگ سر شریک تھے۔ اس پروگرام کی نوعیت مجھے یاد نہیں کہ وہ یوم تعلیم،یوم اردویا یوم اطفال یا کوئی اور دن تھا۔ اس وقت انکے نام کے ساتھ انجمن ترقی اردو ہند کا نام پہلی بار سنا تھا۔وہ اس انجمن کے کسی عہدے پر تھے۔لڑکپن میں یہ سب باتیں سمجھ سے پرے تھیں۔اس وقت سے لیکر اب تک میرے ہی حساب سے وہ انجمن کے ذریعہ اردو کی خدمت میں پورے تیس سال گزار چکے ہیں۔
3؍ نومبرسنہ2019ء میں کانکی نارہ و جگتدل شاخ کمیٹی کی تشکیل نو کے لئے ایک نشست حمایت الغرباء ہائی اسکول میں بلائی گئی اس نشست میں میرے استاد محترم عظیم اللہ انصاری کو صدر اور مجھے جنرل سکریٹری منتخب کیا گیا۔دسمبر کے آغازسے ہی کورونا وبا چین سے شروع ہوکر پوری دنیا میں پھیل گئی اور لاک ڈائون کا سلسلہ شروع ہوا۔اس سلسلے میں جب کچھ نرمی آئی تو 17؍اکتوبر2020ء کو سیر سد ڈے کے موقعے پرکانکی نارہ حمایت الغرباء ہائی اسکول میںانجمن ترقی اردو ہند، کانکی نارہ و جگتدل شاخ کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں شرکاء کے علاوہ بڑی تعداد میں طلباء و طالبات بھی شریک ہوئے ۔ کمیٹی کی تشکیل کے بعد یہ پہلی تقریب تھی۔اسی موقعے سے میں نے سرسید احمد خان پر ایک مضمون بھی بعنوان’’دورِ حاضر میں سر سیداحمد خان جیسے مفکّر اور مدبّرکی ضرورت‘‘ لکھا۔ جوچار دن پہلے ہی اخبار مشرق نے شائع کر دیا۔اسے پڑھ کر قاسم علیگ صاحب ناکہ صرف خوش ہوئے بلکہ میرا نمبر حاصل کرنے کے لئے خواجہ احمد حسین سے رجوع بھی کیا ۔خواجہ بھائی کی زبانی جب انھوں نے یہ سنا کہ انجمن کانکی نارہ و جگتدل شاخ کا سکریٹری بھی ہے اور سنیچر کو بڑے پیمانے پر سر سید ڈے کا پروگرام کرنے والا ہے تومزید خوش ہو گئے اور میرا نمبر لے کر مجھے اسی دن فون کر کے نہ صرف مبارک دی بلکہ دعائوں سے بھی نوازا ۔ اس دن سے قاسم علیگ صاحب ہر دو چار دن پر مجھے فون کرتے انجمن کی کارگردگی بیان کرتے اور آئندہ دنوں کیا کیا کرنا ہے اس سے بھی اگاہ کرتے تھے۔ بڑے ہی مشفق و شفیق اور شریف النفس انسان تھے۔ فون سے ملاقات اور بات میں ایسا لگتا تھا کہ ان سے بہت پرانی جان پہچان ہے۔جب کبھی میری تخلیق اخباروں میں پڑھتے میری حوصلہ افزائی کے لئے فون ضرور کرتے اور اسی بہانے انجمن کی بھی بات ہو جاتی تھی۔میں نے بیشتر قلم کاروں کی زبانی یہی سنا کہ قاسم صاحب میری تخلیق پڑھ کر فون کئے، حوصلہ افزائی کی اور دعائیں دی۔ یہ ہے اردو کی بے لوث خدمت ، صرف زبانی جمع خرچ نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے لئے وقت اور پیسہ دونوں صرف کرتے تھے۔
دو چار منٹ روبرو با ت کرنے کا اتفاق پہلی بار خواجہ احمد حسین کی سبکدوشی پر الوداعیہ پروگرام میں’ ہورہ ہائی اسکول‘ میں ہوا۔ اس کے بعد جب اردو گھر(توپسیا) میں انجمن کی پہلی میٹنگ ہوئی ،اس میٹنگ کے خاتمے کے بعدان سے میری گفتگوکچھ دیر تک ہوئی۔ گفتگو کے دوران مجھے احساس ہوا کہ قاسم علیگ کے دل میں اردورچی اور بسی ہوئی ہے۔ انجمن اور اردو کی ہی باتیں کرتے رہے مگر ساتھ ساتھ یہ بھی احساس ہو کہ وہ بڑے نرم دل انسان ہیں۔جب میں ان سے اجازت چاہی تو بہت ہی پیار سے مسکراتے ہوئے انھوں نے کہا خطاب صاحب کچھ دیر اور رکیں میں جانتا ہوں آپ کو یہاں سے گھر پہنچنے میں دو گھنٹے لگیں گے اس لئے زیادہ دیر تک میں نہیں روکوں گا۔کچھ دیر بعدہی جب دو لوگ جانے کی اجازت لئے تو انھوں نے مجھ سے کہا یہ آپ ہی کی طرف ایک ٹیٹا گڑھ اور ایک بارک پور جائیں گے آپ ان کے ساتھ چلے جائیں۔یہ پدرانہ شفقت دیکھ کر میں ان کا گرویدہ ہو گیا۔ان سے میری انسیت اور بڑھ گئی۔ اب جب کبھی وہ فون کرتے میں پہلے ان سے بات کرنے کو ہی ترجیح دیتا ۔ وہ علیک سلیک کے بعد پوچھا کرتے کہ دو چار منٹ بات کرنے کے لئے وقت ہے نہ آپ کے پاس ، اس کے بعد ہی گفتگو شروع کرتے ۔ایک دن گفتگو کے دوران جب انھوں نے انجمن سے جڑے نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے میری حوصلہ افزائی کر رہے تھے تو میں نے کہا کہ آپ میری نظر میں قریب تیس سالوں سے انجمن اور اردو کی خدمت کر رہے ہیں تب انھوں نے کہا ،ہاں50 سال سے زائد کا عرصہ بیت گیااردو کی ترقی و ترویج کی کوشش میں۔پہلے تو اس انجمن میں نوجوان شامل نہیں ہوتے تھے مگر ادھر کچھ سالوں سے آپ جیسے نوجوان انجمن سے جڑے ہیں۔اسی میں ایک واقعہ انھوں نے بیان کیا کہ سنہ1972 میں مرکزی حکومت کے تحت اردو کی ترقی کے لئے آئی ۔کے۔ گجرال نام کی ایک کمیٹی بنی اور میں اسی سال اس کمیٹی سے منسلک ہوگیا ۔اس کی ایک کہانی یوں ہے کہ کلکتے میںاس کی ایک میٹنگ رکھی گئی جس میں بذات خود آئی ۔کے۔ گجرال موجود تھے۔ ہم کل15 آدمی میٹنگ میں شامل ہونے کے لئے گئے مگر وہاں جاکر پتہ چلا کہ ہر ریا ست سے صرف دو لوگوں کو میٹنگ میں شامل ہونے کی اجازت ہے، تو میرے ساتھ صرف ایک ساتھی گئے با قی 13 لوگ باہر ہی کھڑے رہے۔آدھ گھنٹے کے بعدہمارے باہرکھڑے لوگوں کی طرف سے گجرال صاحب کو ایک چٹھی ملی اسے پڑھ کر گجرال صاحب نے پہلی صف میں بیٹھے لوگوں بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ الگ الگ ریاست کے صحافی ہیں۔تو انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کا انتظام کوئی اور بہتر جگہ پر کر دیا جائے اور باہر کھڑے اُن تیرہ لوگوں کو بلا کر اِن نشستوںپر بیٹھا دیا جائے کیونکہ یہ کلکتہ والے اپنی مادری زبان اردو سے بہت پیار کرتے ہیں اور پیار کرنے والے کو تڑپانا ٹھیک نہیں ہے۔ اس طرح کلکتہ سے پورے پندرہ لوگ اس میٹنگ میں شامل ہوگئے۔پھر یوں کہا کہ گجرال کمیٹی کے بینر تلے کئی سالوں تک اردو کی ترویج و ترقی کے لئے کام کیا اور انجمن ترقی اردو ہند سے ہم آج تک یا یوں کہیں کہ تا حیات جڑے رہیں گیں ۔ ان شاء اللہ ۔لیکن اب آپ جیسے نوجوان کے ہاتھ میں یہ انجمن ہے۔اب آپ لوگوں کو ہی آگے بڑھنا ہے اور اس انجمن کو چلا نا ہے۔
انکی ایماں پر میںنے ’’خدابخش اوریئنٹل لائبریری‘‘ بہار پٹنہ پر ایک مختصر مضمون حکومت بہار کے لیے لکھا۔ اس کے بعد بچوں کی لائبریری پر کچھ لکھنے کو کہا تو ایک نظم ’’یہ بچوں کی دنیا جہاں ہو گی اردو‘‘ لکھی۔سوچئے اردو سے اتنی محبت کہ جب خدا بخش لائبریری کا کچھ حصہ پرسڑک کی تعمیرکے لئے حکومتِ بہارغور و خوض کر رہی تھی تو انھیں بنگال سے ہی فکر لاحق ہوئی اور اس ضمن میںمراسلہ یا مضمون بہت لوگوں سے لکھوایا تاکہ اردو کی تحفظ ہو سکے۔اردو ان کی روح میں بس چکی تھی ۔ اردو کی ترقی کے لئے تمام شاخوں کے لوگوں سے رابطے میں رہتے اور آخر آخر وقت تک اس کے لئے سر گرم رہے اور انکی روح بھی اردو کے ہی منچ پر پروازہوئی، ان کی روح کو بھی دوسری جگہ ایسے محب اردو کے لئے پرواز کرنا گوارہ نہ ہوا۔ ایک قطعہ ان کے لئے کہ
ایسے عاشق بھی اردو کے ہوتے ہیں کیا
جیسے عاشق تھے اردو کے قاسم علیگ
جاتے جاتے انھوں نے یہ ثابت کیا
سچے عاشق تھے اردو کے قاسم علیگ
اردو کے سچے عاشق،خادم اور اردو سے سچی محبت کرنے والے کی موت سے نہ صرف اہل ہوڑہ وکلکتہ بلکہ اہل بنگال بھی سوگوار ہے کیونکہ وہ ہر اردو آبادی والے علاقے میں اردو کی ترقی کے لئے پروگراموںمیں شر کت کیا کرتے تھے۔ہر اردو آبادی والے علاقے میں اردو زبان کے تعلق سے انکے بہت سارے خدمات ہیں جس کی کمی محسوس کی جا ئے گی یا یوں کہیں کہ ایسا بدل ملنا ممکن نہیں۔ان کی اچانک رحلت سے انجمن اورانجمن کے لوگ یتیم ہو گئے۔ایسی فعال شخصیت کی خلاء کو پُر کر نا بہت ہی مشکل امر ہے۔میں دعا گو ہوں کہ اللہ انکی قبر کو نور سے منور کر دے اور انھیں جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام اور ان کے لواحقین کو صبرو جمیل عطا کرے۔ آمین۔





Facebook Comments