بیروزگاری کا زمانہ تھا مگر ماں جی نے کبھی اس کا احساس نہ ہونے دیا کہ ہماری جیب خالی ہے۔ چونکہ ہم سوشل تھے اور دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اور دوست بھی وہ جو ماں کے ہاتھوں پکے ہوئے لذیذ کھانوں کے رسیا ۔۔۔ اس لیے ماں جی کو ہماری سماجی زندگی کا بخوبی ادراک تھا (بلکہ آج بھی ہے)۔ ہم خوب دن چڑھے بیدار ہوتے‛ نہا دھو کر ناشتہ کرتے اور صاف ستھرا استری شدہ لباس پہن کر گھر سے نکل جاتے۔ دن بھر دوستوں کے ہاں منڈلیاں جمتیں۔ خوب سیر سپاٹے ہوتے۔ جیب ہماری‛ ہماری عدم کفایت شعاری کی باعث خالی ہو جاتی مگر ہر صبح نئے جوڑے کی بغلی جیب میں مناسب ترین خرچی موجود ہوتی۔ اس کا علم والد صاحب کو نہ تھا۔ وہ بااصول انسان ہیں۔ ایک منظم منتظم کی طرح ماتحت سے پراگرس کے خواہاں رہنے والے اور بہترین کارکردگی پر فراخدلی سے انعام دینے والے۔ لیکن ماں جی کا معاملہ اور تھا۔ ہر ماں اولاد کے معاملے میں ناموجود اصولوں کو توڑتی ہے۔ بار بار معاف کرنے والی۔ اولاد کے عیوب پر پردہ بھی ڈالے گی اور غیر محسوس طور پر تربیتی عمل کو بھی جاری رکھے گی۔ مامتا کے سٹیمنا کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ خدائی سنت پر عمل پیرا ہوتی ہے۔

خیر تمہید طول پکڑ گئی ‛ بتانا یہ تھا کہ گھر (کراچی) سے قریب ہمارے ایک سواتی پٹھان دوست افضل خان کا ڈھابہ تھا‛ زیادہ تر ہم وہیں پائے جاتے۔ چونکہ گاڑھی یاری تھی تو ہوٹل کے مختلف معاملات میں ہم اس کا ہاتھ بٹاتے۔ رات گئے جب تالے پڑ جاتے تو گھر جانے سے پہلے ذرا جم کر گپ شپ ہوتی‛ دو تین سگریٹیں سکون سے پھونکتے اور پھر اگلے دن کے وعدے پر یہ جا اور وہ جا۔

افضل خان بہت زمانہ شناس اور خود ساز تھا۔ راہ کا وہ روڑہ جو ٹھوکروں کی بدولت سڈول ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ لفافہ چاک کیے بغیر خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں۔ اتنے چالاک کہ آنکھ کا کاجل چرا لیتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ اس نے اس نے کچھ رقم یہ کہہ کر ہمیں دینے کی کوشش کی کہ یار رکھ لو ‛ ایویں ہی مجھ سے خوامخواہ میں خرچ ہو جائے گی۔ ہم سمجھ جاتے تھے کہ اس نے ہماری جیب کا مضمون بھانپ لیا ہے مگر ہمیں یاری عزیز تھی ‛ پیسے نہیں۔۔۔اس لیے سختی سے انکار کر دیتے ۔ الیتہ ایک بار نہ رہ سکے کہ ضرورت ہی کچھ ایسی آن پڑی تھی۔ تاہم وہ قرض فوراً ہی چکا دیا تھا۔

اچھے بھلے دن گزر رہے تھے کہ ایک رات جب گھر جانے سے قبل حسب معمول گپ شپ کرنے بیٹھے تو فضل خان نے پوچھا : "کچھ رقم درکار ہے‛ انتظام ہو جائے گا یا نہیں؟"

ہم نے سوچا آج پھر یہ حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر سخاوت پر آمادہ ہے ‛ لہذا مذاق میں کہا : "چیل کے گھونسلے میں ماس کی توقع رکھتے ہو ‛ شرم نہیں آتی؟"

مگر وہ سنجیدہ تھا۔ اس نے بتایا : "ہوٹل بند کرنا پڑ گیا ہے‛ کچھ معاملات بہت بگڑ گئے ہیں۔ ٹھیک سے بتا نہیں سکتا۔ بہت رقم کی ضرورت ہے‛ جانتا ہوں تم نہ دے سکو گے مگر مشکل ایسی آن پڑی ہے کہ ہر دل کو کھٹکھٹا بھی نہیں سکتا اور رہ بھی نہیں سکتا۔"

اب ہم بھی پریشان ہوئے لیکن ماں جی پہ تکیہ تھا اس لیے افضل خان سے کہا : "میں کتنے دوں؟ یہ بتاؤ بس۔ کر لوں گا کچھ انتظام۔ بتاؤ تو۔۔۔"

"چالیس ‛ یعنی مبلغ چالیس ہزار صرف۔" اس نے نظر ملائے بغیر کہا۔

"کب تک؟" ہم نے پوچھا۔

"چاہے ابھی ہو جائیں‛ چاہو تو کل یا پھر پرسوں تک مگر اس سے زیادہ نہیں۔"

ہم نے ماں جی سے بات کی اور بہانہ بنایا کہ ملازمت نہیں کرنی‛ دکانداری کرنی ہے۔

ماں جی نے نہ یہ پوچھا کہ دکان کونسی کھولو گے اور نہ یہ کہ چالیس ہزار سے بنے گا کیا۔ اگلے دن بہرحال ہمیں رقم مل گئی جو ہم نے افضل خان کے حوالے کر دی۔

افضل خان کا ہوٹل بکا‛ پھر سنا کہ گھر بھی اور پھر فوکسی کار بھی۔ خاندان سمیت وہ کہاں گیا ‛ کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ چھ ماہ بعد ماں جی نے البتہ ہم سے یہ ضرور پوچھا کہ بیٹا تمہارا کاروبار تو ٹھیک چل رہا ہے نا ؟

کہاں کا کاروبار ‛ ہمیں تو سرکاری ملازمت مل گئی تھی۔

دو سال بیت گئے۔ دسمبر کا مہینہ تھا اور کوئٹہ کی سرد ہواؤں سے کراچی ٹھٹھر رہا تھا۔ رات کے تین بجے کا عالم ہو گا کہ والد صاحب نے ہمیں جگایا کہ اٹھو ‛ تمہارا دوست افضل خان آیا ہے۔

ہم ننگے سر اور ننگے پاؤں باہر نکلے اور افضل خان سے جا لپٹے۔ یہ وہ افضل خان نہیں تھا‛ گلی کے مرکری بلب کی تیز روشنی میں پچکے گالوں ‛ بے رونق رنگت اور اندر دھنسی ہوئی آنکھوں والا افضل خان تھا۔ ہاتھ کھردرے اور مصافحے کی گرفت سخت تھی۔ ہم نے ڈیوڑھی میں بیٹھنے کو کہا مگر وہ پرانی زندہ دلی اور شوخی کے ساتھ انکار کرتے ہوئے بولا : " بیٹھوں گا نہیں ‛ پشاور کے لیے ریل پکڑنی ہے‛ آج رات بارہ بجے دبئی سے کراچی پہنچا ہوں‛ تمہرا دیدار ضروری تھا‛ امانت لوٹانی ہے۔" اور جیب سے ایک ربڑ بینڈ میں بندھی رقم کا بنڈل ہمہاری طرف بڑھایا۔ جسے لینے میں ہمیں ہچکچاہٹ محسوس ہوئی تو اس نے کہا۔ "پورے چالیس ہیں۔"

ہم ہنس پڑے : "معلوم ہے ‛ مگر ماں جی ‛ مجھے رقم سمیت معاف کر چکی ہیں۔ رکھ لو ‛ تمھیں ادھار تھوڑی دی تھی۔"

اس نے ایک بے ضرر سی گالی دیتے ہوئے بنڈل بزور ہمیں تھمایا اور ماں جی کے لیے سلام اور شکریہ کی تاکید کے ساتھ وداعی معانقہ کیا اور پھر ملنے کا وعدہ کر کے چلا گیا۔

صبح ہم نے رقم ماں جی کو لوٹا دی۔

مگر یہ روداد یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کوئی مہینہ بھر بعد ایک دن افضل خان کا بڑا بیٹا ہمیں اتفاق سے مل گیا۔ ہم خوش ہوئے کہ چلو اب دوبارہ پرانی محفلیں آباد ہوں گی۔ ناظم خان سے ہم نے پوچھا : "تمہارے داجی کہاں ہیں؟"

جواب میں وہ کچھ مغموم سا ہوا ‛ پھر بولا : " چاچا ! آپ کو نہیں پتا ‛ وہ تو تین مہینے پہلے فوت ہو گئے ہیں۔ میں کل ہی سوات سے کراچی آیا ہوں ‛ قصبہ کالونی میں ماموں کے پاس۔"

اس کے بعد جو ہماری حالت غیر ہوئی ‛ وہ ہم ہی جانتے ہیں۔

ناظم خان سے ہم کیسے پوچھتے کہ اگر افضل خان تین ماہ قبل فوت ہو چکا ہے تو مہینہ بھر پہلے قرض لوٹانے والا کون تھا۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement