جسٹس اطہر من اللہ نے سپریم کورٹ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آدھی تاریخ آمریت میں گزری ہے، ڈکٹیٹر شپ میں آزادی اظہار رائے ممکن ہی نہیں۔ انھوں نے صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کے لیے صحافیوں کا کردار کلیدی رہا ہے، کورٹ رپورٹرز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جج بنا تو پہلا کیس ضمانت کا آیا، بحیثیت جج ہم اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتے، جج کو آزاد ہونا چاہیے، جج پر جتنی تنقید ہو وہ اثر نہ لے، کوئی جج تنقید کا اثر لے گا تو وہ حلف کی خلاف ورزی کرے گا،  عدلیہ کو گھبرانا نہیں چاہیے، نہ خائف ہونا چاہیے۔

 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے، بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں، وقت کے ساتھ سچائی خود سامنے آتی ہے، ہمیں اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہیے کہ کہاں جا رہے ہیں، ہم مرضی کے فیصلے، مرضی کی گفتگو چاہتے ہیں۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement