- Islamabad
- 24.9°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو / طالب انصاری
سنتے آئے ہیں
دیواروں کے کان ہوا کرتے ہیں
لیکن ان کا دل بھی ہوتا ہے
تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو
یہ دیواریں
کیسے بلک کے روتی ہیں
کہنہ سالی کے باعث چھکتی چوکھٹ
کیسے دہائی دیتی ہے
دروازوں کی بھی
آنکھیں ہوتی ہیں
رستا روکنے والی آنکھیں
بوسیدہ ٹرنکوں میں رکھّی الّم غلّم چیزیں
یک دم کتنی قیمتی ہو جاتی ہیں
چھوٹے چھوٹے طاقوں کی
نصف مربّع فٹ کی وسعت کے آگے
دنیا کتنی چھوٹی لگتی ہے
جن ٹوٹی پھوٹی اینٹوں پر
ننھّے ننھّے کومل پاوٗں
ہنستے کھیلتے جیون کا اظہار کیا کرتے تھے
وہ کچّا پکّا آنگن
پھیل کے نیل گگن جیسا ہو جاتا ہے
گم سم دالانوں کے سنّاٹے بھی
آواز دیا کرتے ہیں
تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو
-
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے...
-
بیروزگاری کا زمانہ تھا مگر ماں جی نے کبھی اس کا احساس نہ ہونے دیا کہ ہماری جیب خالی ہے۔ چونکہ ہم سوشل تھے اور دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اور دوست بھی وہ جو ماں کے ہاتھوں پکے ہوئے لذیذ کھانوں کے رسیا ۔۔۔ اس لیے ماں جی کو ہماری سماجی زندگی کا بخوبی ادراک تھا (بلکہ آج بھی ہے)...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments