تازہ ترین
اردو اور مقامی زبانوں کا باہمی ربط / مفیدہ ماجد
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہرقومی زبان اپنی علاقائی بولیوں کے الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہے۔چونکہ زبان بھی کسی جاندار کی طرح ارتقا کے عمل سے گزرتی ہے لہذا وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے اثرات قبول کرتے ہوئے وقت گزرنے کے ساتھ بدلتے ماحول میں ڈھلنے کی بھر پور کوشش کرتی ہے۔ان صفات کی وجہ سے قومی ومقامی زبانیں اپنی ضرورت کے تحت ایک دوسرے سے الفاظ کا لین دین کرتی رہتی ہیں۔ مزید یہ کہ زمانے کا چلن،نئی نئی ایجادات اور خاص طور پرہمسایہ ممالک میں آمدو رفت بھی اس ذخیرہ الفاظ میں اضافے کا باعث ہیں۔اپنے وجود کو قائم رکھنے کی جستجوکا یہ عمل صرف قومی زبان میں ہی فعال نہیں ہوتا بلکہ تمام مقامی زبانیں بھی اس ارتقائی عمل کی پابند ہیں۔ قومی اور علاقائی زبان میں در آنے والے الفاظ چاہے کسی بھی علاقے یا ملک کی زبان سے تعلق رکھتے ہوں اپنی اصل کا خود پتا دیتے ہیں۔ ہماری قومی زبان اردو بھی ہماری علاقائی بولیوں یعنی مادری زبانوں کے الفاظ کا مجموعہ ہے لیکن ہماری قومی زبان، اپنی معیار بندی کی وجہ سے علاقائی زبانوں سے دوری اختیار کر گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک چھوٹی سی مثال ملاحظہ ہو۔قدیم اردوزبان میں لفظ ”بوجا“ (بوجھا) وزن کے لیے استعمال ہوتا تھا۔(۱)
ایبٹ آباد میں بولی جانے والی ہندکو میں بوجھ کے لیے لفظ”پہار“ استعمال ہوتا ہے۔ اردو زبان کا لفظ ”بھاری“ہندکو کے ”پہارا“ کے بہت قریب ہے۔ممکن ہے ایک زمانے میں لفظ ”بھاری“ اردو میں بھی ”پہاری“ ہی لکھا اور پڑھا جاتا ہو؟لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبان کی مصنوعی معیار بندی نے اسے ہندکو کے لفظ سے بالکل الگ کر دیا ہو؟؟؟اب لفظ ”بوجھا“ پر آتے ہیں۔یہ لفظ ہندکو زبان کے تمام لہجوں میں کپڑوں میں لگی”جیب“ کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ اردو میں اسے ”جیب“ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔قدیم اردو کے لفظ ”بوجا“ پر غور کیا جائے تو نہ صرف جدید اردو کے لفظ”جیب“ کی تمام کہانی سمجھ میں آ جاتی ہے بلکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ابتدا میں یہ اردو میں بھی ”بوجھا“ہی استعمال ہوتا ہوگا۔ اب شہروں میں بولی جانے والی ہندکو میں یہ ”بوجھا“کی بجائے’’جوبھا“ بولا جاتا ہے جسے سننے اور پڑھنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ لفظ ”جیب“ کی بگڑی صورت ہو۔
اردو زبان کس زبان سے پیدا ہوئی؟کہاں پیدا ہوئی؟کیوں پیدا ہوئی؟ میرا مقصد نہ تو اس بحث میں پڑنا ہے،نہ کسی کادعویٰ رد کرنا ہے اور نہ ہی کسی کی تحقیقی کاوش پر انگلی اٹھاناہے ۔تحقیق کی بنیاد ایک مفروضے پر قائم کی جاتی ہے اور ایک محقق گہرے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پراپنے قائم کردہ مفروضے کو ثابت کرتا ہے۔لیکن ہر زمانے کا اپنا ایک سچ ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی تحقیق حتمی نہیں ہوتی بلکہ اس میں گنجائش کا امکان بہر طور موجود رہتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل دوران مطالعہ چند ایسی چیزیں نظروں سے گزریں جنھیں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ہماری زبان کی خدمت کرنے والے بڑے بڑے نام کس طرح اپنی مقامی بولیوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔میرے خیال میں ہمارے لیے اپنی قومی زبان کے ہمراہ مادری زبان اور دیگر مقامی زبانوں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔قومی زبان اور مادری زبان میں اولیت کسے حاصل ہے؟یہ بحث بالکل ایسی ہی ہے جیسے ”مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا“کی بحث۔
سید قدرت نقوی کے ایک جملے نے نہ صرف چونکایا بلکہ سہیل بخاری صاحب کا مضمون”اردو زبان کے چند محاورے“پڑھنے پر مجبور کر دیا۔سید قدرت نقوی نے لکھا تھا:
”اردو زبان کے چند محاورے“محترم سہیل بخاری صاحب کا مضمون بے حد چونکا دینے والا ہے۔“(۲)
اپنے مضمون میں سید قدرت نقوی نے ڈاکٹر سہیل بخاری کے مضمون میں شامل محاورات کی مناسب و موزوں تشریح پیش کی تھی لیکن محاورہ”کھاری کنویں میں ڈالنا“ (۳)پر پہنچ کر وہ بھی شش و پنج میں مبتلا ہو گئے۔یہ محاورہ ہندکو زبان میں ”کھاری کھُوئے بچ پانڑاں“ بولا جاتا ہے جس کے معنی ہیں ”فضول کام میں وقت ضائع کرنا“۔کھاری دراصل ہندکو زبان میں شہتوت کی لختوں (لخت درخت کی اس ٹہنی کو کہتے ہیں جو بالکل سیدھی ہوتی ہے۔)سے بنی ٹوکری کو کہتے ہیں،جو گھروں میں مختلف مقاصد مثلاً سبزیاں ڈالنے، مرغے مرغیوں کو ڈھانپنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ کھارا کی تصغیر ہے۔کھاری کی بنت اس طریقے کی ہوتی ہے کہ اس میں پانی نہیں ٹھہرتا اس لیے اسے کنویں سے پانی نکالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا بلکہ کنویں سے پانی نکالنے کے لیے چمڑے یاپیتل کا ڈول استعمال کیا جاتا ہے جسے ہندکو میں ”بوکا“ کہتے ہیں۔کنویں میں ڈول کی بجائے کھاری ڈالنے کا مطلب ہے وقت کا زیاں،کیوں کہ کنویں کی منڈیر تک آتے آتے پانی کھاری سے بہہ جاتا ہے اور وہ خالی باہر آتی ہے۔
کتاب”سیرِ ملکِ اودھ“ پڑھنے کا موقع ملا۔یہ یوسف خان کمبل پوش کا وہ نادر سفر نامہ ہے جو انھوں نے ۷۴۸۱ء میں تحریر کیا، جس پر سفر نامے سے زیادہ اپنے لوگوں کا بے عزتی نامہ ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ اس تحریر میں بالکل اسی طرح باہر سے آنے والوں کو مقامی لوگوں پر فوقیت دی گئی ہے جس طرح ہم اپنی زبان کے الفاظ سے زیادہ غیر ملکی زبان کے الفاظ کو فوقیت دیتے ہیں،اور اپنی مقامی بولیوں کے صدیوں پرانے الفاظ کو نظر انداز کر کے دوسری ثقافتوں سے در آنے والے الفاظ کو اہمیت دیتے دیں۔ اردو زبان میں لکھے جانے والے،یوسف کمبل پوش کے اس سفر نامے میں ہندکو الفاظ کی بھرمار ہے لیکن ابھی میں صرف ایک لفظ ”چھرا“ پر بات کروں گی۔
”پھر چھرا روپوں کا چلنے لگا اور شور و غل تماش بینان و شہدان و مردمان فوج کا مچ گیا“(۴)
ڈاکٹر نجیبہ عارف لفظ ”چھرا“ کے معنی لکھتی ہیں:”اسم مذکر۔چھوٹی چھوٹی گولیاں،جو بندوق میں رکھ کر چھوڑتے ہیں۔“(۵)
ہندکو زبان میں ”چھرا“آبشار کو کہتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں آبادی کے قریب اونچائی سے گرنے والے پانی یعنی آبشار کے نیچے چھوٹی چھوٹی دیواریں بنا کر دو تین غسل خانے بنا دیے جاتے ہیں جہاں گاؤں کے مرد غسل کرتے ہیں ایسے غسل خانے کو ”چھرچھوبی“ کہا جاتا ہے۔لفظ کی قدامت کے حوالے سے بات کی جائے تو بندوق کی چھوٹی گولی کے لیے استعمال ہونے والا”چھرا“ بندوق کی ایجاد کے بعد زبان کا حصہ بنا ہوگا جبکہ اونچائی سے گرنے والے پانی کے لیے استعمال ہونے والے لفظ”چھرا“ کی تاریخ اس سے کہیں قدیم ہے۔
میری اس بحث کا مطلب اپنی علمیت بگھارنا یا کسی کی قابلیت پر انگلی اٹھانا نہیں بلکہ یہ باور کروانا ہے کہ ہماری مقامی زبانیں کسی طور بھی غیر اہم نہیں۔نہ تو ہم انھیں بولیاں کہہ کر ان کی اہمیت کم کر سکتے ہیں اور نہ ہی زبان اور بولی میں فرق کی بڑی بڑی دلیلیں پیش کر کے انھیں کم تر قرار دے سکتے ہیں۔جس طرح ہم الفاظ کی چھان بین کے لیے دیگر زبانوں کی لغات کھنگالتے ہیں کبھی کبھار مقامی زبانوں کی لغات پر نظر دوڑا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ممکن ہے جسے ہم کسی دوسری زبان سے آنے والا لفظ سمجھتے ہوں ہماری اپنی ہی کسی مقامی بولی کا ہو۔
انسان نے جب سے بولناشروع کیا،اپنے ابتدائی دور میں کچھ لکھ کر محفوظ کیا یا نہیں لیکن بے شمار الفاظ سینہ بہ سینہ ہر نسل کو منتقل ضرور کرتا رہا ہے۔زبان میں موجود محاورات اور ضرب الامثال کا ذخیرہ وہی سینہ بہ سینہ چلنے والا علم ہے۔محاورات ہوں یا ضرب الامثال،کسی ایک زمانے میں نہیں بنتے بلکہ صدیوں کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ان کے معنی کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے کسی ایک دور کو سامنے نہیں رکھا جا سکتا بلکہ صدیوں پرانی تہذیب و معاشرت پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔
حوالہ جات
۱۔ جمیل جالبی،ڈاکٹر،قدیم اردو کی لغت(لاہور:اردو سائنس بورڈ،۹۹۲۔اپر مال،طبع سوم۸۰۰۲ء) ص۶۴۔
۲۔ قدرت نقوی،سید،لسانی مقالات،حصہ اول(اسلام آباد:مقتدرہ قومی زبان،۸۸۹۱ء)ص ۵۴۲۔
۳۔ایضاً،ص۴۵۲۔
۴۔ یوسف خان کمبل پوش،سیرِ ملکِ اودھ،ترتیب و تدوین،نجیبہ عارف(لاہور:پاکستان رائٹرز کوآپریٹوسوسائٹی،طبع اول ۷۱۰۲ء) ص۰۵۱۔
۵۔ایضاً،ص ۹۹۱۔




Facebook Comments