- Islamabad
- 29.4°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
سلطانی گواہ / سید ماجد شاہ
وہ کہہ رہا ہے
تمھارے اعضا
زبان پا کر
مخالفت میں
گواہی دیں گے
جو کر رہے ہیں
وہ سب کہیں گے
میں سوچتا ہوں
مخالفت میں جو بولتا ہے
اسی کے جبڑے کے بیلنے میں
زباں سلامت پڑی ہوئی ہے
اسی کی کشت بیاں میں نم ہے
اسی کے لفظوں میں خوشہ خوشہ سنہری رنگت ابل رہی ہے
وہ لاکھ زم زم پکارتا ہے مگر یہ چشمہ فزوں سے بڑھ کراچھل رہا ہے
یہ کس کا دست کرم ہے ایسا
جو یوریا کی بھری ہوئی بوریاں الٹ کر
مرے ہی اعضا مرے مقابل بڑھا رہا ہے
یہ کون ہے جو مجھی کو مجھ سے لڑا رہا ہے
میں اب کٹہرے میں بے زبانی کی بیڑیوں میں
کسا ہوا ہوں
میں اپنے اعضا سے ہٹ کے اب بھی یہ سوچتا ہوں
کہ جب بھی اعضا پلٹ کے آئے
جو میں کہوں گا
وہی کریں گے
-
جواہرات بہت خوش نما سنگھار میں ہیں
خلل پذیر ہیں گو دل پذیر پیار میں ہیں
مجھے مراد کا حاصل ہے سہل کر لینا
مفاد اس سے مگر تیرے اختیار میں ہیں
بقیہ اچھے ہوں جیسے گزرنے والے تھے
رفاقتوں کے جو لمحات انتظار میں ہیں
جنون ...
-
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہرقومی زبان اپنی علاقائی بولیوں کے الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہے۔چونکہ زبان بھی کسی جاندار کی طرح ارتقا کے عمل سے گزرتی ہے لہذا وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے اثرات قبول کرتے ہوئے وقت گزرنے کے ساتھ بدلتے ماحول میں ڈھلنے کی بھر پور کوشش کرتی ہے۔ان صفات کی...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments