- Islamabad
- 25.5°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
سلطانی گواہ / سید ماجد شاہ
وہ کہہ رہا ہے
تمھارے اعضا
زبان پا کر
مخالفت میں
گواہی دیں گے
جو کر رہے ہیں
وہ سب کہیں گے
میں سوچتا ہوں
مخالفت میں جو بولتا ہے
اسی کے جبڑے کے بیلنے میں
زباں سلامت پڑی ہوئی ہے
اسی کی کشت بیاں میں نم ہے
اسی کے لفظوں میں خوشہ خوشہ سنہری رنگت ابل رہی ہے
وہ لاکھ زم زم پکارتا ہے مگر یہ چشمہ فزوں سے بڑھ کراچھل رہا ہے
یہ کس کا دست کرم ہے ایسا
جو یوریا کی بھری ہوئی بوریاں الٹ کر
مرے ہی اعضا مرے مقابل بڑھا رہا ہے
یہ کون ہے جو مجھی کو مجھ سے لڑا رہا ہے
میں اب کٹہرے میں بے زبانی کی بیڑیوں میں
کسا ہوا ہوں
میں اپنے اعضا سے ہٹ کے اب بھی یہ سوچتا ہوں
کہ جب بھی اعضا پلٹ کے آئے
جو میں کہوں گا
وہی کریں گے
-
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے...
-
بیروزگاری کا زمانہ تھا مگر ماں جی نے کبھی اس کا احساس نہ ہونے دیا کہ ہماری جیب خالی ہے۔ چونکہ ہم سوشل تھے اور دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اور دوست بھی وہ جو ماں کے ہاتھوں پکے ہوئے لذیذ کھانوں کے رسیا ۔۔۔ اس لیے ماں جی کو ہماری سماجی زندگی کا بخوبی ادراک تھا (بلکہ آج بھی ہے)...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments