- Islamabad
- 29.4°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
- Home
- قانون سازی
- سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے: جسٹس اطہر من اللہ
سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے: جسٹس اطہر من اللہ
جسٹس اطہر من اللہ نے سپریم کورٹ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آدھی تاریخ آمریت میں گزری ہے، ڈکٹیٹر شپ میں آزادی اظہار رائے ممکن ہی نہیں۔ انھوں نے صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کے لیے صحافیوں کا کردار کلیدی رہا ہے، کورٹ رپورٹرز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جج بنا تو پہلا کیس ضمانت کا آیا، بحیثیت جج ہم اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتے، جج کو آزاد ہونا چاہیے، جج پر جتنی تنقید ہو وہ اثر نہ لے، کوئی جج تنقید کا اثر لے گا تو وہ حلف کی خلاف ورزی کرے گا، عدلیہ کو گھبرانا نہیں چاہیے، نہ خائف ہونا چاہیے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے، بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں، وقت کے ساتھ سچائی خود سامنے آتی ہے، ہمیں اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہیے کہ کہاں جا رہے ہیں، ہم مرضی کے فیصلے، مرضی کی گفتگو چاہتے ہیں۔
-
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے...
-
بیروزگاری کا زمانہ تھا مگر ماں جی نے کبھی اس کا احساس نہ ہونے دیا کہ ہماری جیب خالی ہے۔ چونکہ ہم سوشل تھے اور دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اور دوست بھی وہ جو ماں کے ہاتھوں پکے ہوئے لذیذ کھانوں کے رسیا ۔۔۔ اس لیے ماں جی کو ہماری سماجی زندگی کا بخوبی ادراک تھا (بلکہ آج بھی ہے)...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments