شاعری شاعرکی جان ہوتی ہے،اور ہر شاعرکا کلام اس کے تخیل کا شاہکار ہوتا ہے۔ شاعر اپنے کلام میں اپنا جو معافی الضمیر بیان کرتا ہے،یہ اسے ہی علم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ سننے والا اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق غزل و نظم کی تشریح کرتا ہے۔اور جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق کسی بھی کلام کی تشریح میں ہر بندہ اپنی اپنی سوچ و فکر کے مطابق رائے دیتا ہے۔کسی شعر یا غزل کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ فضول ہے۔سراسر شاعر کے سینے میں خنجر گھوپنے کے مترادف ہوتا ہے۔شاعرکا تخیل چاہے جیسا بھی ہو،شاعر کو اس کے بارے میں تعریف و توصیف ہی درکار ہوتی ہے۔ واہ، واہ، زبردست، لاجواب،کیا کہنے آپ کے، بڑا زبردست خیال پیش کیا ہے جناب،آپ کا فکر و خیال تو فلاں سے بھی بڑھ کر ہے،کمال کا شعر کہا آپ نے، مقطع کے تو کیا ہی کہنے جناب،کیاخیال باندھا ہے آپ نے، مطلع کا تو جواب ہی نہیں، ایک ایک شعر میں موتی پروئے ہیں آپ نے،خیال کی روانی بے مثل ہے،اور کیا ”ردہم“ہے جناب،آپ تو استادوں کے استاد نکلے،وقت کے ساتھ ساتھ آپ بہت ترقی کریں گے اورشعر و ادب کی دنیا میں آپ کا ہی طوطی بولے گا…… یہ اور ان جیسے دیگر توصیفی کلمات ہی شاعر کیلئے مسرت و شادمانی کا پیغام ہوتے ہیں۔ اور اگر کسی تنقیدی اجلاس میں یا عام محفل میں پہلی غزل پر شاعر کے کلام کو پذیرائی ملے تو موصوف جوش میں آکر دو غزلیں، ایک آدھ قطعہ بھی سنائیں گے۔ بعد میں یار لوگ شاعر کی اس نفسیاتی کیفیت کا فائدہ اٹھائیں گے اور ساتھ ہی یہ پیشکش کر دیں گے جناب! ہم آپ کے فن کے قدر دان ہوئے، اگلے ماہ ہم آپ کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام کریں گے،آپ کو گولڈ میڈل بھی پیش کریں گے۔ہماری ادبی تنظیم سال ہا سال سے یہی کام کرتی چلی آ رہی ہے۔ہم اب تک بیسیوں لکھاریوں اور شعرا ء و شاعرات کو گولڈ میڈل، شیلڈز اور تعریفی اسناد سے نواز چکے ہیں۔ آپ کا تو حق بنتا ہے۔ آپ تو عظیم قلم کار /شاعر ہیں۔آپکی قدر نہ کرنا علم و ادب کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ادبی خدمات پر ”گولڈ میڈل،شیلڈزاور تعریفی اسناد سے نوازنے کا سلسلہ بھی اپنے اندر کئی کہانیاں لیے ہوئے ہے۔
    پاکستان بھر میں قلم کاروں کے فن کو جلا بخشنے کیلئے استاد قلم کاروں کی بنائی گئی متعدد تنظیمیں طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں۔ ان کامقصد ادب کے حوالے سے تنقیدی اجلاس کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔ان کے ہفتہ وار اجلاس ہوتے ہیں جہاں قلم کار افسانہ، غزل،نظم یا کہانی کی صورت اپنی تخلیقات تنقید کے لیے پیش کرتے ہیں۔ اس تنقیدی اجلاس میں شرکاء کی تنقید اور رائے کئی لحاظ سے لکھاریوں کی رہنمائی کا سبب بنتی ہے۔لیکن یہاں بھی عرصہ دراز سے ایک”مافیا“ براجمان ہے۔ یہ مافیا اپنے من پسند لوگوں کی تخلیقات کی تعریف و توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملادیتا ہے۔پیش کردہ تخیل کی خامیوں کی نشاندہی کی بجائے ”سب اچھا“اور ”بے مثال“ قرار دے دیا جاتا ہے۔لیکن جہاں کہیں کسی نوآموز قلم کار نے اپنا کوئی افسانہ یا غزل پیش کی تو شرکاء صاحبان تنقید کے وہ تیر و نشتر اس پر برسانے کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں کہ بندہ دل برداشتہ ہو کر آئندہ کیلئے کوئی تخیل پیش کرنے سے ہی توبہ تائب ہو جاتا ہے۔گذشتہ کچھ برس سے دیکھا دیکھی ملک بھر میں بے شمار ادبی تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں۔جہاں دو شاعر یا افسانہ نگار مل بیٹھتے ہیں وہاں ہی ایک ادبی تنظیم تشکیل پا جاتی ہے۔ اب تک ہر شہر میں بیسیوں ادبی تنظیمیں بن چکی ہیں،جن کا وجود محض ایک یا دو لوگوں کے دم سے قائم ہے۔ پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں علم و ادب کی دنیا محض پندرہ بیس لکھاریوں اور شعراء کے گرد گھوم رہی ہے یہی چند لوگ ہیں جو ہر ادبی محفل کے روح رواں ہیں۔اگر ایک ہی دن دوچار تنظیمیں اپنے اپنے ادبی پروگراموں کا اعلان کردیں تو مہمانوں کے ساتھ ساتھ سامعین کا بھی مسئلہ سنگین صورت اختیار کر جاتا ہے۔علم وادب کے فروغ کیلئے سوشل میڈیا خاص طور سے فیس بک اور واٹس ایپ پر بھی بیسیوں لوگوں نے اپنے گروپس اور پیجز بنا رکھے ہیں۔جہاں لوگوں کو اپنی شعر وشاعری و دیگر تخلیقات شیئر کرنے کی سہولت دی جاتی ہے۔
    ادبی تقریبات میں سال ہا سال سے ایک مہمان خصوصی کے ساتھ ایک ہی صاحب صدارت کی روایت رہی ہے لیکن اب ہر دوسری تقریب میں تین تین مہمانان خصوصی،ایک صاحب صدارت کے علاوہ چار پانچ مہمانانِ اعزاز بھی اسٹیج پر رونق افروز ہوتے ہیں جس بھی شاعر یا قلم کار کو ”پروٹوکول“نہ دیا جائے،وہ اسے اپنی توہین سمجھ کر آئندہ کسی پروگرام میں بلاوے کے باوجود نہیں آتا۔اس کیفیت کا نقصان یہ ہوتاہے کہ سامعین کی صورت چار چھ بندے ہی تقریب میں موجودہوتے ہیں۔
    جدید ٹیکنالوجی کی بدولت کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ وسعت پا رہا ہے،”آن لائن میگزینز“بھی شائع کیے جا رہے ہیں۔”کتابی سلسلہ“کے نام سے بیسیوں ادبی رسالے فیس بک یا ویب بلاگر پر شائع ہو رہے ہیں۔ اسکے لیے کسی سرکاری اجازت نامے کی ضرورت نہیں پڑتی۔اور نہ ہی کسی تسلسل کا ہونا ضروری ہے۔سوشل میڈیا پر شعر و شاعری لوگوں کی واہ واہ اور تعریف و توصیف سے زیا دہ کوئی مقام نہیں رکھتی کیونکہ شعر و غزل پر   ”واہ واہ“ کرنے یا رائے دینے والے ”تیزگام“کی طرح فیس بک کا سفر کررہے ہوتے ہیں۔راستے میں جہاں انھیں اپنے من پسند شاعر یا شاعرہ کا کلام نظر آتا ہے وہ بن دیکھے واہ واہ کرکے گزر جاتے ہیں فیس بک پہ لوگ اسقدر جلدی میں ہوتے ہیں کہ خبرِ غم پہ بھی’ماشاء اللہ‘ کی رسید دے جاتے ہیں۔
    سوشل میڈیا کی وجہ سے ادبی سرقہ بھی عام ہو چکا ہے۔ کسی تخیل میں دو شعرا کا اتفاق ہوجانا کوئی نئی بات نہیں۔ایک ہی خیال کو استاد شعرا نے بھی اپنے اپنے انداز میں باندھا ہے۔ تاہم کچھ تو اپنا قد کاٹھ بڑھانے کیلئے ادبی سرقہ کوبھی کوئی عیب خیال نہیں کرتے۔سوشل میڈیا پر شعروں میں خیال کی مطابقت بھی ’فساد فی العرض“کا سبب بنتی ہے۔جو کسی بھی شاعر کیلئے نفسیاتی الجھن کے سوا کچھ نہیں۔نوآموز لکھاریوں کی طرف سے اصلاح کے لئے سینئرز کودی جانے والی تخلیقات یا شعر و شاعری پر مشتمل کتابوں سے مواد کی چوری کی شکایات عام ہیں۔بعض لوگ پوری پوری غزلیں،نظمیں چوری کرکے اپنے نام سے منسوب کر لیتے ہیں۔جن پر یہ نئے لکھنے والے کسی طور دعویٰ بھی نہیں کرسکتے۔
    پبلشنگ کے کاروبار سے منسلک قلم کاروں اورادیبوں نے بھی اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو’صاحبِ کتاب‘بنانے کا سلسلہ دراز کر رکھا ہے۔ اس دھندے میں مردوں سے زیادہ خواتین افسانہ نگاروں اور شاعرات کو نوازا جاتا ہے۔صاحبِ حیثیت خواتین کوتو پیسے کی وجہ سے پورے پورے دیوان چھاپ کر دے دیے جاتے ہیں۔جبکہ مالی طور پر کمزور خواتین کی مجبوریوں کو ’کیش‘ کروایا جاتا ہے۔یوں علم و ادب کی خدمت کے نام پر ’قلم فروشی‘کا سلسلہ بھی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ ترقی کرنا،معاشرے میں اپنا مقام بنانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن ’چمک‘کے زور پریااپنی عزت کو نیلام کرکے شہرت پانا، کوئی قابل تعریف بات نہیں۔ادب نواز لوگ اپنی خواہشات کے غلام بن کر ’بے ادبی‘ کو فروغ دے رہے ہیں۔علم عروض سے ناآشنا لوگ کئی کئی شعری مجموعوں کے مصنف بن چکے ہیں۔اور علم و شعور کی روشنی سے بے نیاز لوگ ادبی دنیا کے شہ سواروں میں سب سے آگے ہیں۔
    ’صاحب کتاب‘ ہونا کوئی بڑی بات نہیں،صاحب علم و دانش ہونا کمال ہے۔کتاب کی ہیت ترکیبی سے نابلد لوگ مصنفوں کی صف میں شمار کئے جاتے ہیں۔اور علم آشناباشعور لوگ قلم فروشی کے ذریعے اپنانظام زندگی چلانے میں لگے ہیں۔علم کے خریدار بھی ہیں اور دکاندار بھی بہت ہیں۔علم و ادب سے وابستہ افراد ہمارا حقیقی سرمایہ ہیں۔لیکن ان میں سے اکثرلوگ محدود وسائل کی بناء پر ”صاحب کتاب“ہونے کا شرف حاصل نہیں کر پاتے۔حکومت کو ایسے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے اور لکھاریوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ذہن اور شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تخلیقات پیش کریں،اسی میں ان کی نیک نامی ہے۔بیساکھیوں کے سہارے علم وادب کی دنیا میں زیادہ دیر انسان کھڑا نہیں رہ سکتا۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement