- Islamabad
- 23.8°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
پسینے کی جھیل / شہزاد نیر
میں نے پیشانی کی شیلف خالی کر دی
تاکہ وہ ترتیب سے رکھ لے
اپنے تمام الزام
اس نے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے
اور مجھ سے فائدہ اٹھا لیا
بھر گئے ہم دونوں
مفاد سے وہ
الزام سے میں!
بدنصیبی سے بڑا طعنہ
اور دولت سے بڑا تمغہ
کہیں دنیا میں ہو تو بتاؤ!
وہ میرے پسینے سے اپنا ظرف بھرتا ہے
میں سوکھنے لگوں تو لگا دیتا ہے
کسی اور کو پسینہ بہانے پر
زمین پر نہ انسان کم ہیں
نہ حرص کے برتن
یہ دنیا جھیل ہے
پسینے کے قطروں سے بنی جھیل
جس کے مالک وہ ہیں
جو خود پسینہ نہیں بہاتے!
-
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے...
-
بیروزگاری کا زمانہ تھا مگر ماں جی نے کبھی اس کا احساس نہ ہونے دیا کہ ہماری جیب خالی ہے۔ چونکہ ہم سوشل تھے اور دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اور دوست بھی وہ جو ماں کے ہاتھوں پکے ہوئے لذیذ کھانوں کے رسیا ۔۔۔ اس لیے ماں جی کو ہماری سماجی زندگی کا بخوبی ادراک تھا (بلکہ آج بھی ہے)...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments