- Islamabad
- 24.9°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
پیاس کی بغاوت / شاہ روم خان ولی
وہ رقاصہ ہے
مطربہ ہے
اور بلا کی حسین اور تند خو ہے
اسے نغموں میں اپنا جوبن ڈالنے کا
ہنر تو آگیا ہے لیکن
محبتوں سے دلوں کے شہر فتح کرنا
ابھی اس نے نہیں سیکھا
ہے شعر گوئی بھی اب اس کا تعارف
مگر وہ نظم کم اور
زائچے کچھ زیادہ ہی بناتی ہے
اسے فطرت کی رنگینی لبھاتی ہے
بدن کی پیاس اس کو بھی لگتی ہے یقینا
وہ ترستی ہے
ترستی ہے وہ لمس کی حدت کو لیکن
اسے دولت سے شہرت سے جو راحت مل رہی ہے
اسے اپنا اثاثہ جان بیٹھی ہے
اسے معلوم ہی کب ہے
حقیقی سرخوشی چاہت کے وجودِ دلربا سے ہے
وفا سے ہے
یہاں جو پیاس ہے
وہ آس ہے
اور اس پیاس کا انساں سے روٹھ جانا
زوالِ آدمیت کے سوا کچھ بھی نہیں
-
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے...
-
بیروزگاری کا زمانہ تھا مگر ماں جی نے کبھی اس کا احساس نہ ہونے دیا کہ ہماری جیب خالی ہے۔ چونکہ ہم سوشل تھے اور دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اور دوست بھی وہ جو ماں کے ہاتھوں پکے ہوئے لذیذ کھانوں کے رسیا ۔۔۔ اس لیے ماں جی کو ہماری سماجی زندگی کا بخوبی ادراک تھا (بلکہ آج بھی ہے)...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments