- Islamabad
- 27.7°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
ہم دشتِ بے کــــنار میں وَحشت سے مَر گئے / پرویز ساحر
ہم دشتِ بے کــــنار میں وَحشت سے مَر گئے
حیرت کی بات یہ ہے کہ حیرت سے مر گئے
اِس دَور ِ بے لحــــــاظ میں جیـــنا عـــذاب ہے
ہیں خوش نصیب لوگـــ جو عزّت سے مر گئے
اِن حُکــم رانِ وقت پہ ' لعنت ' کے چار حرف
سارے عــوام اِن کی سیـــــاست سے مر گئے
تقسیــــم کر دیا گیــــــا ہم کو کچھ اِس طـــــرح
ہم ایکــــــ دوســــرے کی حماقت سے مر گئے
جــــو زندہ رہ گئے ہیں وہ کچھ بـــولتے نہیــں
ہم میں جو با ضمیـر تھے' کثرت سے مر گئے
اَجھّـــا ہُوا کہ مَــوت کو اَرزاں کِیـــــــا گیــــــا
اجھّــــا ہُوا کہ لوگـــــــــ سہُولت سے مر گئے
ہم تو سمجھ رہے تھے کہ اَحســـاس ہے اُنھیں
ہم ایسے ســادہ لَــوح کہ غُربت سے مر گئے
-
جواہرات بہت خوش نما سنگھار میں ہیں
خلل پذیر ہیں گو دل پذیر پیار میں ہیں
مجھے مراد کا حاصل ہے سہل کر لینا
مفاد اس سے مگر تیرے اختیار میں ہیں
بقیہ اچھے ہوں جیسے گزرنے والے تھے
رفاقتوں کے جو لمحات انتظار میں ہیں
جنون ...
-
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہرقومی زبان اپنی علاقائی بولیوں کے الفاظ کا مجموعہ ہوتی ہے۔چونکہ زبان بھی کسی جاندار کی طرح ارتقا کے عمل سے گزرتی ہے لہذا وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے اثرات قبول کرتے ہوئے وقت گزرنے کے ساتھ بدلتے ماحول میں ڈھلنے کی بھر پور کوشش کرتی ہے۔ان صفات کی...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments