- Islamabad
- 33.2°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
ہم دشتِ بے کــــنار میں وَحشت سے مَر گئے / پرویز ساحر
ہم دشتِ بے کــــنار میں وَحشت سے مَر گئے
حیرت کی بات یہ ہے کہ حیرت سے مر گئے
اِس دَور ِ بے لحــــــاظ میں جیـــنا عـــذاب ہے
ہیں خوش نصیب لوگـــ جو عزّت سے مر گئے
اِن حُکــم رانِ وقت پہ ' لعنت ' کے چار حرف
سارے عــوام اِن کی سیـــــاست سے مر گئے
تقسیــــم کر دیا گیــــــا ہم کو کچھ اِس طـــــرح
ہم ایکــــــ دوســــرے کی حماقت سے مر گئے
جــــو زندہ رہ گئے ہیں وہ کچھ بـــولتے نہیــں
ہم میں جو با ضمیـر تھے' کثرت سے مر گئے
اَجھّـــا ہُوا کہ مَــوت کو اَرزاں کِیـــــــا گیــــــا
اجھّــــا ہُوا کہ لوگـــــــــ سہُولت سے مر گئے
ہم تو سمجھ رہے تھے کہ اَحســـاس ہے اُنھیں
ہم ایسے ســادہ لَــوح کہ غُربت سے مر گئے
-
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے...
-
بیروزگاری کا زمانہ تھا مگر ماں جی نے کبھی اس کا احساس نہ ہونے دیا کہ ہماری جیب خالی ہے۔ چونکہ ہم سوشل تھے اور دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اور دوست بھی وہ جو ماں کے ہاتھوں پکے ہوئے لذیذ کھانوں کے رسیا ۔۔۔ اس لیے ماں جی کو ہماری سماجی زندگی کا بخوبی ادراک تھا (بلکہ آج بھی ہے)...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments