- Islamabad
- 33.2°C
- Today ( Saturday, 25 April 2026)
26ویں ترمیم کو ختم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسٹس مظہر
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے 20 صفحات پر مشتمل نوٹ میں قرار دیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ انہوں نے بنچز اختیارات کیس میں آئینی بنچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ریگولر بنچ کو آئینی تشریح کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس مظہر نے لکھا کہ 26ویں ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے اور اس کے مندرجات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ اس میں تبدیلی نہیں کرتی، تمام معاملات اسی کے تحت چلیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی بنچ کو کرنی چاہیے اور ریگولر بنچ کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو رکنی بنچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکمنامے واپس لیے جا چکے ہیں، جس کے بعد کی تمام کارروائی غیر مؤثر ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ آئینی بنچ نے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے بھی کالعدم قرار دیے تھے۔
-
پاکستان میں پانی کی کمی اور گھر گھر بورنگ کا عمل ایک بہت بڑا اور ناگزیر مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ دونوں مسائل مل کر ملک کے لئے مستقبل کے لئے ناکامی کی طرف گامزن ہو رہے ہیں۔
پانی کی کمی کا مسئلہ پاکستان کے تمام علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ بہترین زرعی زمینوں کی پانی سے محروم...
-
شہروں میں فضائی آلودگی اور ٹریفک کی شدت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ دونوں مسائل شہری زندگی کے اہم جوانمرگی کو متاثر کر رہے ہیں۔
فضائی آلودگی، جو زیادہ تر خود وسیع شہروں میں خواتین، بچوں، اور بڑھتی عمر والے افراد کو متاثر کرتی ہے، صحت کی بڑی خطرہ ہے۔ یہ ناک اور رذک س...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments