- Islamabad
- 33.8°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
صارف کے حقوق/ایڈووکیٹ ثاقب بٹ
پاکستان میں صارفین کے حقوق کا تصور ایک ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گیا ہے جب مارکیٹ میں اشیاء و خدمات کی بھرمار ہے لیکن معیار، قیمت اور دیانت داری کے اصول اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں۔ صارفین وہ افراد ہوتے ہیں جو مختلف اشیاء اور خدمات خریدتے ہیں اور ان کے استعمال سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں صارفین کو ان کے حقوق کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہو اور ان کی حفاظت کے لیے مؤثر قانون سازی اور عمل درآمد موجود ہو۔
پاکستان میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں، جن میں سب سے نمایاں "کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ" ہے، جو مختلف صوبوں میں نافذ العمل ہے۔ اس قانون کے تحت صارف کو ناقص مال یا خدمات پر شکایت درج کروانے، ہرجانہ لینے اور دھوکہ دہی کے خلاف قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ہر صوبے میں کنزیومر کورٹس قائم کی گئی ہیں جو صارفین کی شکایات کا ازالہ کرتی ہیں۔
صارفین کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں: معیاری مصنوعات کا حق، مناسب قیمت کا حق، معلومات حاصل کرنے کا حق، انتخاب کی آزادی، نقصان کی صورت میں ازالے کا حق، اور محفوظ ماحول میں خریداری کا حق۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان حقوق کی خلاف ورزی ایک عام بات بن چکی ہے۔ جعلی اور ناقص اشیاء کی فروخت، زائد قیمتیں، غیر شفاف لیبلنگ، اور صارف کو دھوکہ دینے والی تشہیر عام ہیں۔
دیہی اور نیم شہری علاقوں میں صارفین کے حقوق کی پامالی زیادہ دیکھنے میں آتی ہے، کیونکہ وہاں نہ صرف آگاہی کی کمی ہے بلکہ ادارے بھی کمزور ہیں۔ شہری علاقوں میں صورتحال قدرے بہتر ہے، لیکن وہاں بھی صارف عدالتوں میں مقدمات کی طوالت اور عمل درآمد میں رکاوٹیں مسائل کو پیچیدہ بناتی ہیں۔
پاکستان میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد، صارفین کی آگاہی، اور دکانداروں و کمپنیوں میں اخلاقی اقدار کا فروغ بھی ضروری ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہر صارف کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ ہو، رسید ضرور لے، شکایت کی صورت میں متعلقہ ادارے سے رجوع کرے، اور معاشرتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کو بھی شعور دے۔
ایک مضبوط صارف ہی ایک مضبوط معیشت اور ذمہ دار معاشرے کی ضمانت ہوتا ہے۔ جب صارف بولے گا، تب ہی نظام بدلے گا۔
-
بلاول بھٹو زرداری نے کوٹ ادو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا میں واحد سیاستدان ہوں جو آپ کی جانب دیکھ رہا ہوں، باقی سیاستدان خلائی مخلوق سے اُمید رکھے بیٹھے ہیں۔
بلاول بھٹو نے سردی میں شرکاء کی جلسے میں شرکت پہ دلی شکر...
-
جسٹس اطہر من اللہ نے سپریم کورٹ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آدھی تاریخ آمریت میں گزری ہے، ڈکٹیٹر شپ میں آزادی اظہار رائے ممکن ہی نہیں۔ انھوں نے صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کے لیے صحافیوں کا کردار کلیدی رہا ہے، کورٹ رپورٹرز سے ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments