تازہ ترین
محلے داری / خورشید احمد عون
یہ میری خوش قسمتی (یا بدقسمتی) ہے کہ پورے شہر میں صرف مجھے ایسے پڑوسی میسر ہیں جو اپنے حقوق العباد سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ اُنہیں پورا کروانے کے لیے کمربستہ بھی رہتے ہیں۔ چنانچہ اُنہو ں نے گلے شکوؤں، طنز کے نشتروں اور بعض اُوقات دھینگا مشتی جیسی نازیبا سمجھ حرکت کو زیبا سمجھتے ہوئے مجھے اتنے ہچکولے دئیے کہ اب میرے جیسا کاہل شخص ہوشیار، حساس اور دردِ دل رکھنے والا بن گیا ہے۔ اب میرا ایک ہاتھ ہر وقت دل پر دھرا رہتا ہے۔ دوسروں کے غم کی شدت میں میرے منہ سے آہیں نکلتی ہیں۔ اُن کی ناز برداری پر رشک کرتے ہوئے میرے من میں بے اختیار یہ خواہش جنم لیتی ہے کہ کاش میں بھی کسی کا ہمسایہ ہوتا۔ کبھی کبھی مادہ پرستی کے زیر اثر اور ایمان کی کمزوری کی وجہ سے خدا کی طرف سے پڑوسیوں کے روپ میں بھیجی گئی آزمائش پر گھبرا کر بے ساختہ آرزو کرنے لگتاہوں کہ۔
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو۔
مگر جب دیکھتا ہوں کہ میرے پڑوسی میری عاقبت سنوارنے میں دن رات کوشاں ہیں تو مجھے اپنی اور غالب کی لادینیت پر بہت غصہ آتا ہے۔ یقین جانیے اگر اس سماج کے تمام افراد میرے پڑوسیوں کی طرح اپنے حقوق سے آگاہ ہو جائیں تو کوئی ظالم ہمارے حقوق پر ڈاکا ڈال سکتا اور نہ ہمیں ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہونے سے کوئی ویٹو پاور روک سکتی۔
میرے پڑوسیوں میں سب سے زیادہ حقوق مِنی آپا کے ہیں۔ چند دن پہلے جانوروں کے گائنا کالوجسٹ مسٹر مودی سے پتا چلا کہ اُن کی بھینس کا اکلوتا نومولود دنیائے بے ثبات سے رخصت ہوگیا ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ پوری رات صف ماتم بچھی رہی۔ مِنی آپا کے وہ آخری تین بچے جنہوں نے شیر خوارگی میں اسی بھینس کا دودھ پیا تھا وہ تو قابو میں ہی نہیں آ رہے تھے۔ وہ اپنی رضاعی ماں کے پاس کھڑے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔
سارے محلے والے (وجہ) پوچھنے لگے مگر ہم رہ گئے جاتے بھی کیسے ہمیں اس کمبخت کے آنے کی خبر ہوئی نہ جانے کی بس رات کے اندھیرے میں آیا اور اس کے اہل خانہ کو موتی سی چھپ دکھلا کر چلا گیا۔
موتی سی چھب تو کیا وہ ہمیں سورج کی تمازت بھی دکھاتا تو خبر نہ ہوتی۔ کیونکہ ہم غارت گرجان مطالعے میں اس قدر غرق رہتے ہیں کہ ارد گرد کچھ خبر نہیں ہوتی۔ ہم ارسطو یا افلاطون کی نجی زندگی میں دخل اندازی تو کرتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ محلے میں ہمارا کیا مقام ہے۔ اڑوس پڑوس میں اللہ جانے کون بشر رہتا ہے۔ کوہ نور کی قیمت کا اندازہ لگالیتے ہیں مگر آٹے دال کا بھاؤ نہیں معلوم۔ دوسری جنگ عظیم یا جنگ افیون کے اسباب بتا سکتے ہیں۔ مگر مہیدے ٹھلّے اور اکبرے افیونی کے درمیان پھڈے کا سبب نہیں جانتے جن کی عورتوں کے مارے ہوئے پتھر ہمارے دانش کدے کی سیخ لگی چوکھٹ سے آآکر ٹکراتے رہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے جانوروں کے ساتھ تعلقات خاصے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ بھی مِنی آپا (گھریلو کتے کا) وہ پِلا ہے جو ہمیں صبح سویرے اس وقت گھورتا ہے جب ہم کالج کو نکل رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم کالج میں اُسے پڑھانے نہیں جاتے۔ ہو سکتا ہے اس کے گھورنے کی یہ وجہ بھی ہو کہ اس کے ذہن میں یہ بات ہو کہ میں کالج کے طلبہ اور اس میں فرق روا رکھتا ہوں اور اُسے نظر انداز کر کے کالج چلا جاتا ہوں تا ہم اگر وہ مجھے صفائی کا موقع دے تو میں اُسے بتاؤں کہ ایسی کوئی بات نہیں مگر وہ ناہنجارموقع نہیں دیتا گھورے چلے جاتا ہے اور ہمیں دس منٹ پہلے کالج پہنچنا پڑتا ہے۔ اب آپ خود بتائیے جس گھر کا پِلا اتنا بدتمیز ہو تو اس کے گدھوں اور گھوڑوں یا بھینسوں سے کیا خبر کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔
دوسرے اہم پڑوسی منیر صاحب ہیں۔ جن کو میں نے اس محلے میں اپنے قیام کے دو سال بعد پہلی مرتبہ اس طرح دیکھا کہ ایک صبح میری طرف آئے اور آتے ہی شکوہ زدہ دہن کھولا۔
”آپ اتنے زیادہ آم“۔ کیوں کھاتے ہیں؟
جی میں آیا کہہ دوں کہ ہمارے آم کھانے سے آپ کو کیا مطلب آپ کے گھر میں لگے شہتوت سے توڑ کر تو نہیں کھاتے۔ مگر صلح جُو طبیعت کے باعث اتنا ہی کہہ پائے۔ کیا مسئلہ ہے؟
مسئلہ تو کوئی خاص نہیں باہر آپ کے پھینکے ہوئے کچرے میں آموں کے چھلکے دیکھ کر میں نے ضروری سمجھا کہ زیادہ آم کھانے سے ہونے والے یرقان کی پیشگی خبر دے دوں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ آم بے شک زیادہ لائیں مگر کھائیں کم۔ باقی اڑوس پڑوس میں بھیج دیا کریں۔ آخر محلے داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور اُس دن آپ کے گھر میں ”ہولو کاسٹ“ چل رہا تھا شاید۔ آپ کے شرارتی بچے جو تعدا دمیں غالباََ بھڑوں کے ہی برابر ہیں۔ بھڑوں کے چھتے جلا جلا کر اُنہیں بھگار ہے تھے۔ آپ کو معلوم ہے کئی بھڑیں ہمارے گھر میں آکر آباد ہوگئیں ہیں اور کئی دوسروں گھروں میں اپنے ٹھکانے بنا رہی ہیں۔ یہ کونسی شرافت ہے اپنا گھر محفوظ بنا کر پورے محلے کو اذیت میں مبتلا کر دیا۔
آپ کا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان بھڑوں کو ہم اپنے گھر میں ہی پنا ہ دیئے رکھتے۔ دی ہے پنا ہ۔۔۔کافی عرصہ دی ہے۔ مگر ان بھڑوں کی یہ فطرت ہے کہ جو بھی انہیں پناہ دیتا ہے اُسے کاٹتی ہیں۔ اب سارے محلے والے مل کر انہیں نکالیں تب بات بنے گی۔ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے غصے سے کہا اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔
بیگم گھبرائی گھبرائی پاس آئیں ”کیا ہوا۔“ کون تھا؟
جو بھی تھا۔ گولی مارو۔ صرف میری بات غور سے سنو اور گھر کے باقی افراد کو بھی سمجھا دو کہ آیندہ آم چھلکوں سمیت کھائیں۔
بیگم سر ہلاتے ہوئے کچرے کے ڈبے کی طرف بڑھیں چھلکے نکال کر پلیٹ میں رکھتے ہوئے بولیں۔ مگر وسیم اکرم، انضمام، سعید انور، وقار یونس، شان،سلیمان خان، شاہ رخ خان، ثانیہ مرزا اور کترینہ کیف کے ابا…… گھٹلیوں کا کیا کریں گے……؟
ان سے کوئی ڈیکوریشن پیس بنا لینا اور کیا…… میں نے بات ختم کی
بات آموں تک محدود رہتی تو خیر تھی مگر یہاں تو پڑوسن آکر کہتی ہے۔ آج آپ نے جو کلو بھنڈی توری بنائی ہے اس میں سے کچھ عنایت کر دیں۔ویسے کل آپ کے گھر شام کو مہمان آئے تھے اگر چکن بریانی سے کچھ بچا ہو تو…… دراصل شہزادہ بڑے شوق سے کھاتا ہے…… آپ اچھی طرح جانتے ہیں میں بہت لاچار عورت ہوں دو وقت کی روٹی نہیں پکا سکتی……
یہ پڑوسن جسے محلے والے اس کے صحن میں لگے چنبیلی کے پھولوں کی نسبت سے چنبیلی خالہ کہتے ہیں نہ صرف محلے میں پکنے والی دالوں اور سبزیوں کا حساب رکھتی ہے بلکہ لڑکوں لڑکیوں کے درمیان پکنے والی کھچڑی پر بھی نظر رکھتی ہے۔ کوئی بھی اس کی نظروں سے بچ کر عشق فرمانے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ چند دن پہلے تو چیئرمین کے بڑے بیٹے کے تعاقب میں اپنے دروازے پر پہنچ گئی اور شوروغل مچا کر اپنا زیور بچانے میں کامیاب ہوگئی۔ گھر پہنچ کر اپنی بیٹی کو خوب پیٹا……
یوں تو میں اپنے آپ کو بڑا معقول آدمی سمجھتا ہوں لیکن مجھے یاد نہیں کہ میں نے اپنی اصلی تنخواہ تاج الدین چچا کو کب بتائی تھی کہ ہر مہینے کی آخری تاریخ کو آدھمکتے ہیں۔
”پانچ سو روپیا اُدھار دیں“۔
ایک دو دفعہ تو دیئے۔ مگر جب دیکھا کہ یہ تو معمول ہی بنتا جا رہا ہے۔ تو چوتھی دفعہ صاف انکار کر دیا (تیسری دفعہ وہ میری غیر موجودگی میں گھر سے مانگ کر لے گئے تھے) اور بہانہ بنایا کہ پیسے ختم ہوگئے ہیں۔
سر کھجلاتے ہوئے بولے۔ ”سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کے پیسے ختم کیسے ہوگئے۔“ جسبِ معمول اس مہینے میں آپ کے گھر میں مرغی پکی نہ گوشت آیا اور نہ ہی کسی مہمان نے رحمت بننے کی زحمت فرمائی اور جس طرح کا کھانا پینا آپ نے اختیار کیا ہوا ہے۔ اس حساب سے انیس ہزار پانچ سو روپیا خرچ بنتا ہے بلکہ تین دن آپ اپنے سانڈو (ہم زلف) کے ہاں بھی گزار آئے ہیں۔ اس بچت کا ذکر تو میں نے کیا ہی نہیں نکالیے پانچ سو روپیا۔
یہ سوچ کر میری تنخواہ سے صرف ہمارا پیٹ بمشکل بھرتا ہے، چچا تاج الدین کی بیوی میرے خاندان کی صحت برقرار رکھنے کے لیے اکثر دیسی نسخے متعارف کرواتی رہتی ہے۔ سب سے سستی تعویز گنڈوں والی ماسی تجویز کرتی ہے۔ ایک دفعہ تو خاندانی بواسیر کا نسخہ بھی لے آئی تھی اور صرف دو سو روپیا وصول کیا۔
واقعی یہ بات درست ہے کہ پڑوسی اچھے بُرے وقتوں میں کام آتے ہیں چنانچہ میرے محلے دار بھی نہ صرف اپنے اچھے اور میرے بُرے وقتوں میں مجھے یاد کرتے ہی بلکہ لڑائی جھگڑوں میں مجھ سے مشورہ کیے بغیر میرا حصہ ڈال دیتے ہیں۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہم شورشرابہ سن کر امن کی آشا لیے باہر نکلتے ہیں اور سر پر ایک عدد گھومٹر سجائے واپس لوٹ آتے ہیں۔




Facebook Comments